‏نمایش پست‌ها با برچسب نبوت، رسالت. نمایش همه پست‌ها
‏نمایش پست‌ها با برچسب نبوت، رسالت. نمایش همه پست‌ها

۱۳۹۰ شهریور ۲۴, پنجشنبه

Hazrat Maseh a.s. dobara is dunya mein tashreef laein gei. حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اِس دنیا میں تشریف لائیں گے


حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اِس دنیا میں تشریف لائیں گے

از: محمد جنید رانچوی ، متعلّم شعبہ تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند


مرزا غلام احمد قادیانی ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء میں پیدا ہوا، اور ۱۸۸۰ء سے ملہم من اللہ ہونے کادعویٰ شروع کیا، اور ۱۸۸۲ء میں مجدّد اور مامور من اللہ ہونے کا دعویٰ کیا۔نیز واضح رہے کہ مرزا نے ۱۸۸۰ء تا ۱۸۸۴ء چار سال میں براہین احمدیہ کے نام پر ایک کتاب کی تصنیف مکمل کی، جس میں خود کو مجدّد اور مامور من اللہ ثابت کرنے کے باوجود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے تئیں جس عقیدے کا اظہار کیا ہے، دو عبارتیں پیش خدمت کیے جاتے ہیں:

Aqeedah hayat al-Anbiya (a.s) Quran e hakeem mein عقیدہ حیات الانبیاءقران حکیم میں


بسم اﷲ الرحمن الرحیم
قرآن حکیم میں بیشتر مقامات پر حیات الانبیاءکا ثبوت ( اشارة النص، دلالة النص اور اقتضا النص) ملتا ہے۔ ان تمام آیات کا احصاءمشکل بھی ہے اور موجب طول بھی۔ اس لئے اختصار کی غرض سے چند آیات کے ذکر پر اکتفا کیا جاتا ہے۔
۱۔ واسل من ارسلنا من قبلک من رسلنا اجعلنا من دون الرحمن الھة یعبدون (پارہ25۔ آیت 45 الزخرف)
ترجمہ: اور آپ ان پیغمبروں سے جن کو ہم نے آپ سے پہلے بھےجا ہے پوچھ لیجئے کہ کیا ہم نے خدائے رحمن کے سوا دوسرے معبود ٹھہرا دئیے تھے کہ ان کی عبادت کرو۔
اس آیت کی تفسیر میں مفسرین نے فرمایا ہے کہ آیت میں انبیا ءعلہیم الصلوة والسلام کی حیات پر استدلال کیا گیا ہے۔ چنانچہ محدث العصر حضرت مولانا سید انور شاہ ؒصاحب فرماتے ہیں ۔ یستدل به علی حیات الانبیاء (مشکلات قرآن ص 234) وھذا فی دار المنشور (جلد ۲ ص۱۶)، روح المعانی جلد 5ص89، جمل جلد 4ص88، شیخ زادہ جلد7ص298، حقاجی جلد7ص444، تفسیرمظہری جلد8ص353، تفسیر جلالین ص408،تفسیر بغوی جلد4ص141،
۲۔ ولقد اتنیا موسی الکتب فلا تکن فی مریة من لقائہ (پارہ21، آیت 43 الم سجدہ)

ترجمہ: اور دی ہم نے موسی کو کتاب اس کے ملنے میں شک میں نہ رہنا ۔
حضرت شاہ عبد القادر صاحب ؒ نے اس تفسیر میں فرمایا ہے کہ معراج میں ان سے ملے تھے۔ موضح القرآن، تفسیر ابن عباس، تفسیر جلالین ص350،تفسیر خازن جلد 3ص479، اور ملاقات بغیر حیات ممکن نہیں۔ لہٰذا اقتضاء النص سے حیات الا نبیاءکو ثبوت ملتا ہے۔ یہاں اصول فقہ کا یہ مسلمہ بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ جو حکم اقتضا النص سے ثابت ہوتا ہے وہ بحالت انفراد وقوت استدال میں عبارة النص کے مثل ہوتا ہے۔

۱۳۹۰ شهریور ۲۲, سه‌شنبه

Haqeeqat e Nabuwat حقیقت نبوت

حقیقت نبوت:
نبی اس انسان کو کہتے ہیں جو مبعوث من اللہ، معصوم عن الخطاء اور مفروض الاتباع ہو ،یعنی وہ انسان جو اللہ تعالٰی کی طرف سے مبعوث ہو، صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے پاک ہو اور اسکی تابعداری کرنا فرض ہو۔ ان صفات کے ساتھ انبیاء کے علاوہ کسی اور انسان کو ماننا، اگرچہ اس کے لیے نبی کا لفظ استعمال نہ کیا جائے کفر ہے۔

نوٹ:

نبی ہمیشہ مرد ہوتا ہے عورت نبی نہیں بن سکتی اور جنات کے لیے بھی انسان ہی نبی ہوتا ہے۔ نبوت وہبی چیز ہوتی ہے۔ جو اللہ تعالٰی کے عطاء فرمانے سے عطاء ہوتی ہے، اپنی محنت سے عبادت کر کے کوئی شخص نہ نبی بن سکتا ہے اور نہ ہی نبی کے مرتبہ اور مقام کو پہنچ سکتا ہے۔